السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يستحب من الإهلال عند التوجه إلى منى إن كان بمكة أو عند المضي في سفره لنسكه إن كان بغيرها باب: منیٰ کی طرف روانہ ہوتے وقت احرام باندھنے کے مستحب ہونے کا بیان اگر وہ مکہ میں ہو، یا اپنے مناسک کے سفر پر روانہ ہوتے وقت اگر وہ کسی اور جگہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ⦗٤٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ مَالِكٍ.عبید بن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابو عبدالرحمن! میں نے دیکھا کہ آپ چار ایسے کام کرتے ہیں جو آپ کا کوئی بھی ساتھی نہیں کرتا۔“ تو انھوں نے پوچھا: ”ابو جریج! وہ کیا ہیں؟“ تو انھوں نے ساری بات ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ ”میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ ہوتے ہیں تو لوگ تو چاند دیکھتے ہی تلبیہ شروع کر دیتے ہیں اور آپ نہیں کہتے ہیں حتیٰ کہ یوم ترویہ آ جاتا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو تلبیہ کہنے کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا حتیٰ کہ آپ کی سواری ان کو لے کر چل پڑی۔“