السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يستحب من الإهلال عند التوجه إلى منى إن كان بمكة أو عند المضي في سفره لنسكه إن كان بغيرها باب: منیٰ کی طرف روانہ ہوتے وقت احرام باندھنے کے مستحب ہونے کا بیان اگر وہ مکہ میں ہو، یا اپنے مناسک کے سفر پر روانہ ہوتے وقت اگر وہ کسی اور جگہ ہو۔
حدیث نمبر: 8937
وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ بلند کرتے ہوئے نکلے، پھر جب ہم مکہ پہنچے تو ہمیں ”اس کو عمرہ بنانے“ کا حکم دیا، ان لوگوں کے سوا جن کے پاس قربانیاں تھیں، پھر جب ترویہ کا دن آیا اور ہم منیٰ کی طرف چلے تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔