السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إدخال الحج على العمرة باب: عمرے پر حج کو داخل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ " فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ " قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، قَالَ: " فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ " فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہیں آیا وہ حلال ہوجائے۔“ ہم نے پوچھا: یہ کیسا حلال ہونا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہونا ہے۔“ تو ہم عورتوں پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ کہنے لگیں: میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔“ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔“ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا۔“ اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔