السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إدخال الحج على العمرة باب: عمرے پر حج کو داخل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ⦗٥٦٨⦘ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ: " إِنَّ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى ظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ وَزَادُوا فِيهِ أَنَّهِ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ. وَقَوْلُهُ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ أَرَادَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، وَلَوْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُدْخِلَ عَلَيْهِ عُمْرَةً فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَكْثَرُ منْ لَقِيتُ وَحَفِظْتُ عَنْهُ يَقُولُ لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَلَا أَدْرِي هَلْ يَثْبُتُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ يَثْبُتُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانے میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور کہا: ”اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا“، پس وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہا اور چلے، حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”معاملہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا ہے“، پس وہ چلے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا سات مرتبہ طواف کیا، اس سے زائد نہیں کیا اور سمجھا کہ یہی کافی ہے اور قربانی دی۔
صحیحین میں امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ”اس پر زیادہ نہیں کیا“ سے مراد یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی، اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر (عمرہ) داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے: یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔