حدیث نمبر: 8745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ". قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: " " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " " قُالْتُ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّوْا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَكَذَا قَالَهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَةٍ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا. وَرَوَاهُ عَقِيلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ. وَبِمَعْنَاهُ رِوَايَةُ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَصَدَّقَهَا فِي ذَلِكَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلَى مِثْلِ ذَلِكَ تَدُلُّ رِوَايَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَوْلُهُ: " " أَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " يُرِيدُ بِهِ أَمْسِكِي عَنْ أَفْعَالِهَا وَأَدْخِلِي عَلَيْهَا الْحَجَّ وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے، وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے، پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے“، فرماتی ہیں: میں مکہ حیض کی حالت میں پہنچی اور میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کیا تھا تو اس بات کا شکوہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو رہنے دے“، فرماتی ہیں: میں نے ایسے ہی کیا تو جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، پھر میں نے عمرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرے کی جگہ ہے“، فرماتی ہیں: جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انہوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر حلال ہو گئے، پھر انہوں نے ایک اور طواف کیا جب وہ اپنے حج سے فارغ ہو کر منیٰ سے لوٹے اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔
(ب) معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں: جس کے پاس قربانی ہو تو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پکارے، پھر ان دونوں سے اکٹھا حلال ہو۔
(ج) عقیل نے زہری سے روایت کیا تو انہوں نے کہا: جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی نہ کی تو وہ حلال ہو جائے۔ اس کی مثل ہشام بن عروہ کی روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے فرمان: ”حج کا تلبیہ پکار اور عمرہ کو چھوڑ دے“ سے مراد یہ تھی کہ اپنے افعال سے رک جا اور حج کے افعال کو لازم کر۔
(ب) معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں: جس کے پاس قربانی ہو تو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پکارے، پھر ان دونوں سے اکٹھا حلال ہو۔
(ج) عقیل نے زہری سے روایت کیا تو انہوں نے کہا: جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی نہ کی تو وہ حلال ہو جائے۔ اس کی مثل ہشام بن عروہ کی روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے فرمان: ”حج کا تلبیہ پکار اور عمرہ کو چھوڑ دے“ سے مراد یہ تھی کہ اپنے افعال سے رک جا اور حج کے افعال کو لازم کر۔
حدیث نمبر: 8746
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ " فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ " قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، قَالَ: " فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ " فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہیں آیا وہ حلال ہوجائے۔“ ہم نے پوچھا: یہ کیسا حلال ہونا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہونا ہے۔“ تو ہم عورتوں پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ کہنے لگیں: میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔“ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔“ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا۔“ اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 8747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ⦗٥٦٨⦘ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ: " إِنَّ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى ظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ وَزَادُوا فِيهِ أَنَّهِ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ. وَقَوْلُهُ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ أَرَادَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، وَلَوْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُدْخِلَ عَلَيْهِ عُمْرَةً فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَكْثَرُ منْ لَقِيتُ وَحَفِظْتُ عَنْهُ يَقُولُ لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَلَا أَدْرِي هَلْ يَثْبُتُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ يَثْبُتُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانے میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور کہا: ”اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا“، پس وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہا اور چلے، حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”معاملہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا ہے“، پس وہ چلے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا سات مرتبہ طواف کیا، اس سے زائد نہیں کیا اور سمجھا کہ یہی کافی ہے اور قربانی دی۔
صحیحین میں امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ”اس پر زیادہ نہیں کیا“ سے مراد یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی، اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر (عمرہ) داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے: یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔
صحیحین میں امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ”اس پر زیادہ نہیں کیا“ سے مراد یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی، اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر (عمرہ) داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے: یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَيِّدٍ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَأَدْرَكْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فأَسْتَطِيعُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً، قَالَ: " لَا لَوْ كُنْتَ أَهْلَلْتَ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَضُمَّ إِلَيْهَا الْحَجَّ ضَمَمْتَهُ، وَإِذَا بَدَأْتَ بِالْحَجِّ فَلَا تَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً "، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " صُبَّ عَلَيْكَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُحْرِمُ بِهِمَا جَمِيعًا فَتَطُوفُ لَهُمَا طَوَافَيْنِ " كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابونصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے احرام باندھا، پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پا لیا تو پوچھا: میں نے حج کی نیت سے احرام باندھا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ عمرہ شامل کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: نہیں! اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا اور پھر تو اس کے ساتھ حج کو شامل کرنا چاہتا تو کر لیتا اور جب تو نے حج کے ساتھ ابتدا کی ہے تو پھر عمرہ ساتھ نہ ملاؤ۔ میں نے پوچھا: پھر میں کیا کروں اگر میں دونوں ہی کرنا چاہوں؟ انہوں نے کہا: اپنے اوپر پانی کا ایک لوٹا بہا اور پھر دونوں کا اکٹھا احرام باندھ اور دو طواف کر۔
حدیث نمبر: 8749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعَ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ لَقِيَ عَلِيًّا وَقَدْ أَهَلَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَأَهَلَّ هُوَ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِعَلِيٍّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا ذَلِكَ لَوْ كُنْتَ حِينَ ابْتَدَأْتَ دَعَوْتَ بِإِدَوَاتِكَ فَاغْتَسَلْتَ ثُمَّ أَهْلَلْتَ بِهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ طُفْتَ طَوَافَيْنِ طَوَافًا بِحَجِّكَ وَطَوَافًا بِعُمْرَتِكَ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْكَ شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَالِكٌ حَدَّثَنِيهِ ⦗٥٦٩⦘ وَقَالَ: لَا ذَاكَ لَوْ كُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِذَا قَرَنْتَ فَافْعَلْ كَذَا فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، وَكَانَ مَنْصُورٌ يَشُكُّ فِي سَمَاعِهِ مِنْ مَالِكٍ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔