السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إدخال الحج على العمرة باب: عمرے پر حج کو داخل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ". قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: " " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " " قُالْتُ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّوْا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَكَذَا قَالَهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَةٍ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا. وَرَوَاهُ عَقِيلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ. وَبِمَعْنَاهُ رِوَايَةُ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَصَدَّقَهَا فِي ذَلِكَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلَى مِثْلِ ذَلِكَ تَدُلُّ رِوَايَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَوْلُهُ: " " أَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " يُرِيدُ بِهِ أَمْسِكِي عَنْ أَفْعَالِهَا وَأَدْخِلِي عَلَيْهَا الْحَجَّ وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے، وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے، پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے“، فرماتی ہیں: میں مکہ حیض کی حالت میں پہنچی اور میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کیا تھا تو اس بات کا شکوہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو رہنے دے“، فرماتی ہیں: میں نے ایسے ہی کیا تو جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، پھر میں نے عمرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرے کی جگہ ہے“، فرماتی ہیں: جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انہوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر حلال ہو گئے، پھر انہوں نے ایک اور طواف کیا جب وہ اپنے حج سے فارغ ہو کر منیٰ سے لوٹے اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔
(ب) معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں: جس کے پاس قربانی ہو تو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پکارے، پھر ان دونوں سے اکٹھا حلال ہو۔
(ج) عقیل نے زہری سے روایت کیا تو انہوں نے کہا: جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی نہ کی تو وہ حلال ہو جائے۔ اس کی مثل ہشام بن عروہ کی روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے فرمان: ”حج کا تلبیہ پکار اور عمرہ کو چھوڑ دے“ سے مراد یہ تھی کہ اپنے افعال سے رک جا اور حج کے افعال کو لازم کر۔