السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ركوب البحر لحج أو عمرة أو غزو باب: حج، عمرہ یا جہاد کے لیے سمندری سفر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سمندری سفر کرنے والے کو اگر قے (الٹی) آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا اجر ہے اور ڈوبنے والے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سمندر میں ایک جنگ خشکی کی دس جنگوں کے برابر ہے، جس نے سمندر پار کر لیا گویا اس نے ساری وادیاں پار کر لیں، کشتی میں سفر کرنے والا خون میں لت پت ہونے والے کی طرح ہے۔