السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ركوب البحر لحج أو عمرة أو غزو باب: حج، عمرہ یا جہاد کے لیے سمندری سفر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٤٨⦘ إِسْحَاقَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عُمَانُ يَنَضَحُ بِجَانِبِهَا الْبَحْرُ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
حسن بن ہادیہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عمان سے، فرمایا: اہل عمان سے؟ میں نے کہا: جی! فرمانے لگے کہ کیا میں تجھے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث سناؤں؟ میں نے کہا: ضرور! فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسی زمین کو جانتا ہوں، جسے عمان کہا جاتا ہے، اس کے دونوں جانب سمندر ہے، وہاں سے حج کے لیے آنا دیگر مقامات کی نسبت دو حجوں سے افضل ہے۔“