السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ركوب البحر لحج أو عمرة أو غزو باب: حج، عمرہ یا جہاد کے لیے سمندری سفر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8667
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَجَّةٌ لِمَنْ لَمْ يَحُجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ، وَغَزْوَةٌ لِمَنْ قَدْ حَجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ حِجَجٍ وَغَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ وَمَنِ اجْتَازَ الْبَحْرَ فَكَأَنَّمَا اجْتَازَ الْأَوْدِيَةَ كُلَّهَا وَالْمَائِدُ فِيهِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ ". كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حج نہیں کیا اس کے لیے حج دس غزوات سے بہتر ہے اور جس نے حج کیا ہوا ہے، اس کے لیے غزوہ کرنا دس حجوں سے بہتر ہے اور سمندری جہاد خشکی جہاد سے دس گنا بہتر ہے اور جس نے سمندر کو پار کیا گویا اس نے تمام تر وادیوں کو پار کیا اور اس (سمندر) میں تیرنے والا خون میں لت پت ہونے والے کی طرح ہے۔“