السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: في فضل شهر رمضان وفضل الصيام على سبيل الاختصار باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
حدیث نمبر: 8509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ عَشْرَةَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ الصَّوْمُ جُنَّةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ عَنْ وَكِيعٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل بڑھا دیا جاتا ہے کہ ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی دوں گا کیونکہ وہ کھانے پینے اور شہوت کو میری وجہ سے ترک کر دیتا ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہوں گی: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت، البتہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے، روزہ ڈھال ہے۔“