السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: في فضل شهر رمضان وفضل الصيام على سبيل الاختصار باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
حدیث نمبر: 8508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّمَا يَتْرُكُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات، کھانے اور پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، اور ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“