کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
حدیث نمبر: 8500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " ⦗٥٠٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 8501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ مَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَّانِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا ہے، مگر جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! تو آگے بڑھ اور اے برائی کے متلاشی! تو کم کر کہ (رُک جا) اور اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد بھی کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 8502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ح وَثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَظَلَّكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَضَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَدْخُلَ وَيَكْتُبَ وِزْرَهُ وَشَقَاءَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَعُدُّ لَهُ النَّفَقَةَ لِلْعِبَادَةِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ يَعُدُّ فِيهِ غَفَلَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ فَهُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے قسمیہ بات کہی کہ: ”مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں گزرا اور نہ ہی منافقین پر کوئی مہینہ جو اس سے زیادہ ان کے لیے برا ہو۔“ رسول اللہ ﷺ نے حلفیہ بیان کیا کہ: ”اللہ تعالیٰ اس میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کے نوافل کا اجر لکھ لیتا ہے، اس کے گناہ اور اس کی بدبختیاں بھی اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مومن اس کی عبادت کا اہتمام کرتا ہے اور منافق مسلمانوں کی غفلت کا اہتمام کرتا ہے اور ان کے عیوب کے پیچھے چلتا ہے، سو وہ مومن کے لیے غنیمت ہے اور فاجر اسے ضائع کر لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 8503
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَنَقْمَةٌ لِلْفَاجِرِ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن تمیم رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا سوائے اس کے کہ یہ کہا کہ ”فاجر کے لیے نقصان ہے۔“
حدیث نمبر: 8504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خَرْزَاذَ قَاضِي الْأَهْوَازِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَقَى الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " آمِينَ آمِينَ آمِينَ " ⦗٥٠١⦘ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا؟ فَقَالَ: " قَالَ لِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَقُلْتُ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ: آمِينَ " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ رَقِيَ الْمِنْبَرَ وَقَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَوْ بَعْدُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے تو فرمایا: «آمِينَ، آمِينَ» ”آمین، آمین“، تو آپ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ ایسا تو نہیں کرتے تھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل امین نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ داخل ہوا، پھر اس نے بخشش نہ کروائی، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔ پھر انہوں نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس آپ کا تذکرہ کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔ پھر انہوں نے کہا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین دونوں یا ایک کو پایا، پھر ان کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوا، تو میں نے کہا: «آمِينَ» ”آمین“۔“
حدیث نمبر: 8505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدِّهْقَانُ، بِمَرْوٍ أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ قُرْطٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَعَرَفَ حُدُودَهُ وَتَحَفَّظَ لَهُ مَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ كَفَّرَ مَا قَبْلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اپنی حدود و قیود کو جانا اور اس قدر حفاظت کی جو اس کے بس میں تھا تو اس کے پہلے گناہ مٹ گئے۔“
حدیث نمبر: 8506
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 8507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ هُوَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَقَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ وَذَكَرَهُ ⦗٥٠٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ روزے دار کے منھ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“
(صحیح مسلم میں ابنِ وہب کی حدیث حرملہ کے حوالے سے بیان کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ابنِ آدم کا ہر عمل۔“)
(صحیح مسلم میں ابنِ وہب کی حدیث حرملہ کے حوالے سے بیان کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ابنِ آدم کا ہر عمل۔“)
حدیث نمبر: 8508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّمَا يَتْرُكُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات، کھانے اور پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، اور ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“
حدیث نمبر: 8509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ عَشْرَةَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ الصَّوْمُ جُنَّةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل بڑھا دیا جاتا ہے کہ ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی دوں گا کیونکہ وہ کھانے پینے اور شہوت کو میری وجہ سے ترک کر دیتا ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہوں گی: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت، البتہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے، روزہ ڈھال ہے۔“
حدیث نمبر: 8510
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الْمُظَفَّرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: " هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ عَنْهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن ایوب واسطی رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے کہہ رہا تھا: اے محمد! اس کے متعلق بیان کریں جو نبی کریم ﷺ اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا“ تو ابن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ اعلیٰ احادیث میں سے ہے اور محکم ہے، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا حساب لے گا اور جس قدر مظالم اس پر ہوں گے انہیں ادا کر دے گا، اس کے تمام اعمال سے حتیٰ کہ صرف روزہ باقی ہوگا، جو باقی ماندہ مظالم ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں ہٹا دے گا اور روزے کے ساتھ جنت میں داخل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 8511
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ أَحَدٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے «الرَّيَّانُ» ”ریان“ کہا جائے گا اور اس سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے قیامت کے دن، ان کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ وہ اس سے داخل ہو جائیں۔ جب ان میں کا آخری شخص داخل ہو گا تو اسے بند کر دیا جائے گا اور ان کے بعد کوئی بھی داخل نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 8512
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، بِطُوسٍ أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مِنْهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ ". ⦗٥٠٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازے کا نام «الرَّيَّانُ» ”ریان“ جس سے روزے داروں کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 8513
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، وَأَبُو طَاهِرٍ الْإِمَامُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا لَيْلَى تُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لَهَا: " كُلِي " فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرُغُوا " أَوْ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ: " حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کھانے کی دعوت دی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں تو صائمہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب روزے دار کے پاس کھایا جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں، جب تک وہ فارغ نہ ہو جائے“ یا فرمایا: ”حتیٰ کہ وہ اپنے کھانے سے فارغ ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 8514
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّائِحِينَ فَقَالَ: " هُمُ الصَّائِمُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے «السَّائِحِينَ» کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ روزے دار ہیں۔“