السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: في فضل شهر رمضان وفضل الصيام على سبيل الاختصار باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الْمُظَفَّرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: " هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ عَنْهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ ".اسحاق بن ایوب واسطی رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے کہہ رہا تھا: اے محمد! اس کے متعلق بیان کریں جو نبی کریم ﷺ اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا“ تو ابن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ اعلیٰ احادیث میں سے ہے اور محکم ہے، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا حساب لے گا اور جس قدر مظالم اس پر ہوں گے انہیں ادا کر دے گا، اس کے تمام اعمال سے حتیٰ کہ صرف روزہ باقی ہوگا، جو باقی ماندہ مظالم ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں ہٹا دے گا اور روزے کے ساتھ جنت میں داخل کر دے گا۔