السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: في فضل شهر رمضان وفضل الصيام على سبيل الاختصار باب: ماہِ رمضان کی فضیلت اور روزے کی فضیلت کا اختصار کے ساتھ بیان۔
حدیث نمبر: 8507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ هُوَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَقَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ وَذَكَرَهُ ⦗٥٠٢⦘.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ روزے دار کے منھ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“
(صحیح مسلم میں ابنِ وہب کی حدیث حرملہ کے حوالے سے بیان کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ابنِ آدم کا ہر عمل۔“)