السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم ير بسرد الصيام بأسا إذا لم يخف على نفسه ضعفا وأفطر الأيام التي نهي عن صومها باب: ان کا بیان جنہوں نے مسلسل روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا بشرطیکہ انسان کو اپنے اوپر کمزوری کا خوف نہ ہو اور وہ ان ایام میں روزہ افطار کرے جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 8483
وَأَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَصُومُ الدَّهْرَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ.حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر اور حضر میں پورے سال کے روزے رکھتی تھیں۔