حدیث نمبر: 8482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ زُرْعَةَ بْنَ ثَوْبٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ قَالَ: " كُنَّا نَعُدُّ أُولَئِكَ فِينَا مِنَ السَّابِقِينَ "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ، قَالَ: " لَمْ يَدَعْ ذَلِكَ لِصَائِمٍ مَصَامًا "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ: " صَامَ ذَلِكَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

رعد بن ثواب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے «صِيَامِ الدَّهْرِ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم انہیں سابقین میں شمار کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ایک روزہ رکھنے اور ایک چھوڑنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے روزے دار نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں اور ان سے ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس نے پورا سال روزے رکھے اور افطار کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8482
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن خزيمه»