السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم ير بسرد الصيام بأسا إذا لم يخف على نفسه ضعفا وأفطر الأيام التي نهي عن صومها باب: ان کا بیان جنہوں نے مسلسل روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا بشرطیکہ انسان کو اپنے اوپر کمزوری کا خوف نہ ہو اور وہ ان ایام میں روزہ افطار کرے جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 8482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ زُرْعَةَ بْنَ ثَوْبٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ قَالَ: " كُنَّا نَعُدُّ أُولَئِكَ فِينَا مِنَ السَّابِقِينَ "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ، قَالَ: " لَمْ يَدَعْ ذَلِكَ لِصَائِمٍ مَصَامًا "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ: " صَامَ ذَلِكَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرَهُ ".حافظ ثناء اللہ
رعد بن ثواب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے «صِيَامِ الدَّهْرِ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم انہیں سابقین میں شمار کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ایک روزہ رکھنے اور ایک چھوڑنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے روزے دار نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں اور ان سے ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس نے پورا سال روزے رکھے اور افطار کیا۔