السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم ير بسرد الصيام بأسا إذا لم يخف على نفسه ضعفا وأفطر الأيام التي نهي عن صومها باب: ان کا بیان جنہوں نے مسلسل روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا بشرطیکہ انسان کو اپنے اوپر کمزوری کا خوف نہ ہو اور وہ ان ایام میں روزہ افطار کرے جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 8484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي سَفَرٍ صَائِمَةً فَقَامَتْ تَرْكَبُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَضَرَبَتْهَا سَمُومٌ حَتَّى لَمْ تُطِقْ تَرْكَبُ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سفر میں روزے رکھتے دیکھا، تو وہ عصر کے بعد سوار ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں مگر انہیں تھکاوٹ نے آ لیا جس وجہ سے وہ سوار نہ ہو سکیں۔