السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى عليه القضاء باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ وَالطَّعَامُ مَحْرُوصٌ عَلَيْهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرَتْنِي حَفْصَةُ، وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: أَصْبَحْنَا صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " صُومَا يَوْمًا مَكَانَهُ ". قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلُوا الزُّهْرِيَّ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالُوا: هُوَ عَنْ عُرْوَةَ؟ قَالَ: لَا..حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی اور ہمیں کھانے کا ہدیہ پیش کیا گیا اور کھانا بھی پرکشش تھا۔ سو ہم نے اس میں سے کھا لیا تو ہمارے پاس نبی کریم ﷺ داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے سوال کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں کھانا دیا گیا اور ہم نے اس میں سے کھا لیا“ تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھنا۔“