السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى عليه القضاء باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٥⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ، فَقَالَ: لَا، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ قِيَامِهِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ حَدَّثَنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَيْسَ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أَتَى مِنْ قَبْلِ الْعَرْضِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَوْ كَانَ مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ مَا نَسِيتُهُ فَهَذَانِ ابْنُ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ شَهِدَا عَلَى الزُّهْرِيِّ وَهُمَا شَاهِدَا عَدْلٍ بِأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ فَكَيْفَ يَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ وَاحْتَجَّ بِحِكَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَبِإِرْسَالِ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جُرَيْجِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ وَقَدْ خَطَّأَهُ فِي ذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا..سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری سے سنا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، اور انہوں نے یہ حدیث مرسل بیان کی۔
سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا: کیا یہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اور یہ بات ان کے مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی جبکہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے صالح بن ابی اخضر کو سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ہمیں زہری سے، عروہ کے واسطے سے بیان کرتے تھے، جبکہ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے، تو میرا خیال ہے کہ صالح کی غلطی عرض (پیش کرنے کے طریقے) کی وجہ سے آئی ہے۔ ابوبکر حمیدی کہتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے معمر سے خبر دی کہ انہوں نے اس حدیث کے بارے میں کہا: اگر یہ عروہ کی حدیث ہوتی تو میں اسے نہ بھولتا۔
پس یہ دونوں، ابن جریج اور سفیان بن عیینہ، زہری کے بارے میں گواہی دیتے ہیں، اور یہ دونوں عادل گواہ ہیں، کہ انہوں نے اسے عروہ سے نہیں سنا، تو جس نے اسے موصول بیان کیا اس کا موصول بیان کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زہری کی عروہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث صحیح نہیں ہے۔ اور محمد بن یحییٰ ذہلی نے بھی یہی کہا ہے، اور انہوں نے ابن جریج اور سفیان بن عیینہ کے بیان سے اور ائمہ کے زہری سے اس حدیث کو مرسل بیان کرنے سے دلیل لی ہے۔ یہ حدیث جریر بن حازم سے، یحییٰ بن سعید سے، عمرہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کی گئی ہے، اور جریر بن حازم اگرچہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر انہیں اس میں وہم ہوا ہے، اور احمد بن حنبل اور علی بن مدینی نے انہیں اس میں غلط قرار دیا ہے، اور محفوظ روایت یحییٰ بن سعید سے، زہری سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل ہے۔