السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى عليه القضاء باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٥⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ، فَقَالَ: لَا، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ قِيَامِهِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ حَدَّثَنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَيْسَ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أَتَى مِنْ قَبْلِ الْعَرْضِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَوْ كَانَ مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ مَا نَسِيتُهُ فَهَذَانِ ابْنُ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ شَهِدَا عَلَى الزُّهْرِيِّ وَهُمَا شَاهِدَا عَدْلٍ بِأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ فَكَيْفَ يَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ وَاحْتَجَّ بِحِكَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَبِإِرْسَالِ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جُرَيْجِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ وَقَدْ خَطَّأَهُ فِي ذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا..حافظ ثناء اللہ
سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری سے سنا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں اور یہ حدیث مرسل بیان کی ہے۔
(سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا کہ وہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بات مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی اور نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے اور ابوبکر جمعہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد وغیرہ نے اس وقت کی خبر دی کہ اگر یہ حدیث عروہ سے ہوتی تو میں نہ بھولتا۔ ابن جریج اور سفیان دونوں نے زہری کے خلاف گواہی دی ہے، وہ صاحبِ عدل ہیں کہ انہوں نے عروہ سے نہیں سنا ہے، ان کا وصال کے لیے درست ہو سکتا ہے۔)