السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى عليه القضاء باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قُلْتُ لَهُ: أَحَدَّثَكَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ فِي هَذَا شَيْئًا وَلَكِنِّي حَدَّثَنِي نَاسٌ فِي خِلَافَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ بَعْضِ مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ فَأَكَلْنَاهَا فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ راوی کہتے ہیں: اس بارے میں میں نے عروہ سے کچھ نہیں سنا لیکن لوگوں نے مجھے سلیمان بن عبدالملک کی خلافت کے بارے میں کچھ باتیں بیان کیں اور عبدالملک ان میں سے تھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے کھا لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پہل کی، وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی، اور انہوں نے یہ بات آپ ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کی قضا دو۔“