حدیث نمبر: 8363
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ، فَبَدَرَتْنِي بِالْكَلَامِ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ وَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْضِيَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ ". هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ثِقَاتُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنْهُ مُنْقَطِعًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ وَبَكْرُ بْنُ وَائِلٍ وَغَيْرُهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی، نفلی روزے کے ساتھ، تو ان کو کھانے کا ہدیہ دیا گیا تو انہوں نے اس کے ساتھ افطار کر لیا، تو ان کے پاس نبی کریم ﷺ داخل ہوئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بات کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے نفلی روزوں کے ساتھ صبح کی۔ پھر ہمیں کھانے کا ہدیہ ملا تو ہم نے افطار کر لیا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض دوسرے دن میں قضا دینا۔“
حدیث نمبر: 8364
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعَرَضَ لَنَا طَعَامٌ فَاشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي حَفْصَةُ، وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ " هَكَذَا رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ وَهِمُوا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں کہ ہمیں کھانا ہدیہ میں ملا تو ہمارے دل میں کھانے کی چاہت ابھری، سو ہم نے کھا لیا۔ پھر ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پہل کی کہ وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں اور ساری بات بیان کر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی دوسرے دن میں اس کی قضا دینا۔“
حدیث نمبر: 8365
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قُلْتُ لَهُ: أَحَدَّثَكَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ فِي هَذَا شَيْئًا وَلَكِنِّي حَدَّثَنِي نَاسٌ فِي خِلَافَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ بَعْضِ مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ فَأَكَلْنَاهَا فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ راوی کہتے ہیں: اس بارے میں میں نے عروہ سے کچھ نہیں سنا لیکن لوگوں نے مجھے سلیمان بن عبدالملک کی خلافت کے بارے میں کچھ باتیں بیان کیں اور عبدالملک ان میں سے تھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے کھا لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پہل کی، وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی، اور انہوں نے یہ بات آپ ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کی قضا دو۔“
حدیث نمبر: 8366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ وَالطَّعَامُ مَحْرُوصٌ عَلَيْهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرَتْنِي حَفْصَةُ، وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: أَصْبَحْنَا صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " صُومَا يَوْمًا مَكَانَهُ ". قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلُوا الزُّهْرِيَّ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالُوا: هُوَ عَنْ عُرْوَةَ؟ قَالَ: لَا..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی اور ہمیں کھانے کا ہدیہ پیش کیا گیا اور کھانا بھی پرکشش تھا۔ سو ہم نے اس میں سے کھا لیا تو ہمارے پاس نبی کریم ﷺ داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے سوال کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں کھانا دیا گیا اور ہم نے اس میں سے کھا لیا“ تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھنا۔“
حدیث نمبر: 8367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٥⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ، فَقَالَ: لَا، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ قِيَامِهِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ حَدَّثَنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَيْسَ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أَتَى مِنْ قَبْلِ الْعَرْضِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَوْ كَانَ مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ مَا نَسِيتُهُ فَهَذَانِ ابْنُ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ شَهِدَا عَلَى الزُّهْرِيِّ وَهُمَا شَاهِدَا عَدْلٍ بِأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ فَكَيْفَ يَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ وَاحْتَجَّ بِحِكَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَبِإِرْسَالِ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جُرَيْجِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ وَقَدْ خَطَّأَهُ فِي ذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا..
حافظ ثناء اللہ
سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری سے سنا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں اور یہ حدیث مرسل بیان کی ہے۔
(سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا کہ وہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بات مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی اور نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے اور ابوبکر جمعہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد وغیرہ نے اس وقت کی خبر دی کہ اگر یہ حدیث عروہ سے ہوتی تو میں نہ بھولتا۔ ابن جریج اور سفیان دونوں نے زہری کے خلاف گواہی دی ہے، وہ صاحبِ عدل ہیں کہ انہوں نے عروہ سے نہیں سنا ہے، ان کا وصال کے لیے درست ہو سکتا ہے۔)
(سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا کہ وہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بات مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی اور نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے اور ابوبکر جمعہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد وغیرہ نے اس وقت کی خبر دی کہ اگر یہ حدیث عروہ سے ہوتی تو میں نہ بھولتا۔ ابن جریج اور سفیان دونوں نے زہری کے خلاف گواہی دی ہے، وہ صاحبِ عدل ہیں کہ انہوں نے عروہ سے نہیں سنا ہے، ان کا وصال کے لیے درست ہو سکتا ہے۔)
حدیث نمبر: 8368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْأَثْرَمَ يَقُولُ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ تَحْفَظُهُ عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ مَنْ رَوَاهُ؟ قُلْتُ: جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فَقَالَ: جَرِيرٌ كَانَ يُحَدِّثُ بِالتَّوَهُّمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر اثرم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ یحییٰ سے اس حدیث کو جانتے ہیں جو انہوں نے عمرہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی، تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ کس نے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا: جریر بن حازم نے۔ انہوں نے کہا: جریر کی احادیث وہم ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 8369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُظَفَّرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْخَلَّالُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ: يَا أَبَا الْحَسَنِ تَحْفَظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ، صَائِمَتَيْنِ فَقَالَ لِي مَنْ رَوَى هَذَا؟ قُلْتُ: ابْنُ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: فَضَحِكَ فَقَالَ: مِثْلُكَ يَقُولُ مِثْلَ هَذَا، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن منصور رمادی کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے کہا: اے ابوالحسن! آپ یحییٰ بن سعید سے حدیث جانتے ہیں جو انہوں نے عمرہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی تو انہوں نے مجھے کہا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ابن وہب جریر بن حازم سے بیان کرتے ہیں تو وہ مسکرا دیے اور وہی بات کہی جو انہوں نے کہی تھی۔
حدیث نمبر: 8370
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا ⦗٤٦٦⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي زُمَيْلٌ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا لِصَاحِبَتِهَا: هَلْ لَكِ أَنْ تُفْطِرِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَفْطَرَتَا ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُهْدِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهُ فَأَفْطَرْنَا فَقَالَ: " لَا عَلَيْكُمَا صُومَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ " أَقَامَ إِسْنَادَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمْ عُرْوَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کھانے کا تحفہ دیا گیا اور ہم روزے سے تھیں، تو ان میں سے ایک نے اپنی سہیلی سے کہا: کیا تو افطار کرے گی؟ اس نے کہا: ہاں، تو ان دونوں نے افطار کر لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے اسے بہت پسند کیا اور ہم نے روزہ افطار کر لیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں تم پر روزہ اس دن کے عوض۔“
حدیث نمبر: 8371
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ زُمَيْلُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عُرْوَةَ: رَوَى عَنْهُ ابْنُ الْهَادِ لَا يُعْرَفُ لِزُمَيْلٍ سَمَاعٌ مِنْ عُرْوَةَ وَلَا لِابْنِ الْهَادِ مِنْ زُمَيْلٍ وَلَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ
شیخ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث دوسری طرف سے بھی بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی درست نہیں اور اس کی کمزوری واضح ہو چکی ہے برخلاف حدیث کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 8372
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَبَدَا لَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ أَوْ قَالَ مَكَانَهُ يَوْمًا " شَكَّ مِسْعَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب کوئی تم میں سے روزے کی حالت میں صبح کرے، پھر اسے افطار کی ضرورت پیش آ گئی تو چاہیے کہ وہ اس کے عوض روزہ رکھے۔