السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8343
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِذًا أَصُومُ " قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " إِذًا أُفْطِرُ وَإِنْ كُنْتُ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دوسرے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ تو میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں آج افطار کر لیتا ہوں اگرچہ آج میں نے روزے کو واجب کر لیا تھا۔“