حدیث نمبر: 8344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْقَاضِي: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: فَجَاءَهُ سَلْمَانُ يَزُورُهُ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا حَاجَةٌ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، وَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَأْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الْآنَ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ ⦗٤٥٨⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ لَكَ سَلْمَانُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ

عون بن ابی محیط اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہما میں بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک دن سلمان رضی اللہ عنہ نکلے تو انہوں نے اُم درداء رضی اللہ عنہا کو پراگندہ حالت میں دیکھا اور کہا: ”اے اُم درداء! تجھے کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ کا بھائی ابودرداء صبح روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے اور اسے دنیا داری کی کوئی حاجت نہیں ہے۔“ ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: ”میں «صَائِمٌ» ”روزے دار“ ہوں۔“ وہ کہنے لگے: ”میں تجھ پر قسم ڈالتا ہوں کہ آپ ضرور افطار کریں گے۔“ تو انہوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر ان کے پاس رات گزاری۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے قیام کرنا چاہا مگر سلمان رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا اور ان سے کہا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے اور تیرے رب کا حق ہے اور تیری بیوی کا حق ہے، لہٰذا تو روزہ رکھ اور کبھی چھوڑ دے اور نماز پڑھ اور اپنی بیوی کی خبر لے اور حق والے کو اس کا حق دے۔“ جب صبح قریب ہوئی تو انہوں نے کہا: ”اٹھو! اگر چاہت ہو تو اب قیام کرو۔“ وہ کہتے ہیں: پھر وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا، دو رکعات پڑھیں اور مسجد کی طرف نکل گئے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے تاکہ آپ ﷺ کو خبر دیں جو کچھ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ایسے ہی جیسے سلمان نے کہا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»