السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8335
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الظُّفُرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حِبَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " ⦗٤٥٥⦘ فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ.حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اے ابو محمد! وہ روایت جو نبی ﷺ اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”بنو آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا۔“