السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الظُّفُرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حِبَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " ⦗٤٥٥⦘ فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ.ایوب بن حبان واسطی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا، اس نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو محمد! وہ روایت جو نبی ﷺ اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”بنو آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا۔“ تو ابن عیینہ نے کہا: یہ عمدہ ترین اور پختہ ترین احادیث میں سے ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عزوجل اپنے بندے کا حساب لے گا اور اس کے ذمے جو مظالم ہوں گے وہ اس کے باقی تمام اعمال سے ادا کرے گا، یہاں تک کہ صرف روزہ باقی رہ جائے گا، تو اس پر جو مظالم باقی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں خود اٹھا لے گا اور روزے کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔