السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ كَيْسَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ مَوْلَاهُ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَا يَسْتَاكُ الصَّائِمُ بِالْعَشِيِّ وَلَكِنْ بِاللَّيْلِ فَإِنَّ يُبُوسَ شَفَتَيِ الصَّائِمِ نُورٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن بلال، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے وقت روزے دار مسواک نہ کرے لیکن رات کو کرے، بے شک صائم کے ہونٹوں کا خشک ہونا قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوگا۔ (ضعیف) الطبرانی۔