السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8336
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْقَصَّابُ كَيْسَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " إِذَا صُمْتُمْ فَاسْتَاكُوا بِالْغَدَاةِ وَلَا تَسْتَاكُوا بِالْعَشِيِّ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَائِمٍ تَيْبَسُ شَفَتَاهُ بِالْعَشِيِّ إِلَّا كَانَتَا نُورًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن بلال سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب تم روزہ رکھو تو صبح کے وقت مسواک کرو، شام کے وقت مسواک نہ کرو، وہ اس لیے کہ روزے دار کے ہونٹ شام کے وقت خشک نہیں ہوتے مگر وہ قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوں گے۔