السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا اور یہ کہ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اس کی جزا اسے خوش کر دے گی اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسند ہے۔“