السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8332
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَ الْعَلَوِيُّ: أنبأ وَقَالَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ الصَّوْمُ جُنَّةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ عَنْ وَكِيعٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر عمل کو بڑھایا جاتا ہے، ایک نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک، سوائے روزے کے، بیشک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کہ وہ میری وجہ سے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو شادمانیاں ہیں: ایک شادمانی افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت ہوگی، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی اطیب و عمدہ ہے، اور روزہ ڈھال ہے، روزہ ڈھال ہے۔“