السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستدل به على نسخ الحديث باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8302
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ⦗٤٤٧⦘ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا كُرِهْتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفْطَرَ هَذَانِ " ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِلَفْظِ التَّرْخِيصِ يَدُلُّ عَلَى هَذَا فَإِنَّ الْأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِيصَ يَكُونُ بَعْدَ النَّهْيِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس کی وجہ سے سنگی کو ناپسند کیا گیا وہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم ﷺ کا پاس سے گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں نے افطار کر لیا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے روزے دار کو سنگی لگوانے کی رخصت دے دی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔