السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستدل به على نسخ الحديث باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمَاعُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَلَمْ يَصْحَبْهُ مُحْرِمًا قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ، فَذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ حِجَامَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ سَنَةَ عَشْرٍ، وَحَدِيثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ سَنَةَ ثَمَانٍ قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ بِسَنَتَيْنِ فَإِنْ كَانَا ثَابِتَينِ فَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ نَاسِخٌ وَحَدِيثُ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " مَنْسُوخٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ مَعًا مُشْتَبَهٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَمْثَلُهُمَا إِسْنَادًا، فَإِنَ تَوَقَّى رَجُلٌ الْحِجَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ احْتِيَاطًا وَلِئَلَّا يُعَرِّضَ صَوْمَهُ أَنْ يَضْعُفَ فَيُفْطِرَ فَإِنِ احْتَجَمَ فَلَا تُفْطِرُهُ الْحِجَامَةُ وَمَعَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْقِيَاسُ الَّذِي أَحْفَظُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَعَامَّةِ الْمَدَنِيِّينَ أَنَّهُ لَا يُفْطِرُ أَحَدٌ بِالْحِجَامَةِ.مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے احرام اور روزے کی حالت میں سنگی لگوائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نبی ﷺ سے سماع عام الفتح سے ہے، اس دن آپ ﷺ محرم نہیں تھے، اور حجۃ الاسلام سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما احرام کی حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ نہیں رہے۔ لہٰذا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی سنگی کا جو تذکرہ کیا ہے وہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا ہے، اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث سن 8 ہجری کی ہے، یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ سو اگر یہ دونوں ثابت ہوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں حدیثوں کی سند مشتبہ ہے اور سند کے اعتبار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ان دونوں میں بہتر ہے۔ سو اگر کوئی احتیاطاً سنگی سے بچے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ اپنے روزے کو اس خطرے میں نہ ڈالے کہ کمزور ہو کر روزہ افطار کر لے، اور اگر سنگی لگوا لے تو سنگی اس کا روزہ نہیں توڑے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ قیاس بھی ہے اور وہ بات بھی جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ، تابعین اور عام اہل مدینہ سے یاد رکھی ہے کہ سنگی سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔