السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستدل به على نسخ الحديث باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْفَتْحِ فَرَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے فتحِ مکہ کے سال، جب آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سنگی لگوا رہا ہے، تب رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے اور آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا کہ: ”حاجم ومحجوم نے افطار کر لیا۔“