السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال: يفطر وإن خرج بعد طلوع الفجر باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”مسافر روزہ افطار کر لے گا اگرچہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد نکلا ہو“۔
حدیث نمبر: 8179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو مُوسَى: " أَلَمْ أَنْبَأَ، أَوْ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَخْرُجُ صَائِمًا وَتَدْخُلُ صَائِمًا "، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَإِذَا خَرَجْتَ فَاخْرُجْ مُفْطِرًا، وَإِذَا دَخَلْتَ فَادْخُلْ مُفْطِرًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تو روزے کی حالت میں نکلتا ہے اور روزے کی حالت میں داخل ہوتا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! تو انہوں نے کہا: جب تو نکلے تو «مُفْطِرٍ» کی حالت میں نکل اور جب تو داخل ہو تو «مُفْطِرٍ» کی حالت میں داخل ہو۔