کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”مسافر روزہ افطار کر لے گا اگرچہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد نکلا ہو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ح وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، زَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ جَعْفَرُ بْنُ جَبْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ فَدَفَعَ ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ، قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ يُجَاوِزِ الْبُيُوتَ حَتَّى دَعَا بِالسُّفْرَةِ، قَالَ: اقْتَرِبْ، قَالَ: قُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: " أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلَ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن جبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، رمضان میں فسطاط سے ایک کشتی میں، تو (کشتی) روانہ ہوئی، پھر کھانا قریب کر لیا۔ جعفر رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ وہ گھر سے ابھی دور نہیں گئے تھے کہ انہوں نے سفر کا کھانا منگوا لیا اور کہا: ”تم قریب ہو جاؤ۔“ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: ”کیا آپ گھروں کو نہیں دیکھ رہے؟“ تو سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟“ جعفر رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا، پھر انہوں نے کھانا کھا لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو مُوسَى: " أَلَمْ أَنْبَأَ، أَوْ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَخْرُجُ صَائِمًا وَتَدْخُلُ صَائِمًا "، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَإِذَا خَرَجْتَ فَاخْرُجْ مُفْطِرًا، وَإِذَا دَخَلْتَ فَادْخُلْ مُفْطِرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تو روزے کی حالت میں نکلتا ہے اور روزے کی حالت میں داخل ہوتا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! تو انہوں نے کہا: جب تو نکلے تو «مُفْطِرٍ» کی حالت میں نکل اور جب تو داخل ہو تو «مُفْطِرٍ» کی حالت میں داخل ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ ⦗٤١٥⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرُ وَقَدْ رُحِّلَتْ دَابَّتُهُ وَلَبِسَ ثِيَابَ السَّفَرِ، وَقَدْ تَقَارَبَ غُرُوبُ الشَّمْسِ، فَدَعَا لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقُلْتُ لَهُ: سُنَّةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں رمضان میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ رکھتے تھے اور ان کی سواری تیار کی جا چکی تھی اور سفر کا لباس بھی پہن لیا تھا اور سورج کے غروب کا وقت قریب تھا تو انہوں نے کھانا منگوایا اور اس میں سے کھایا، پھر سوار ہو گئے، تو میں نے ان سے کہا: ”یہ سنت ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّهُ كَانَ يُسَافَرُ وَهُوَ صَائِمٌ فَيُفْطِرُ مِنْ يوْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق فرماتے ہیں کہ عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ سفر کیا کرتے تھے اس حال میں کہ وہ روزے سے ہوتے، پھر اسی دن افطار کر لیتے تھے۔