السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال: يفطر وإن خرج بعد طلوع الفجر باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”مسافر روزہ افطار کر لے گا اگرچہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد نکلا ہو“۔
حدیث نمبر: 8180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ ⦗٤١٥⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرُ وَقَدْ رُحِّلَتْ دَابَّتُهُ وَلَبِسَ ثِيَابَ السَّفَرِ، وَقَدْ تَقَارَبَ غُرُوبُ الشَّمْسِ، فَدَعَا لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقُلْتُ لَهُ: سُنَّةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں رمضان میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ رکھتے تھے اور ان کی سواری تیار کی جا چکی تھی اور سفر کا لباس بھی پہن لیا تھا اور سورج کے غروب کا وقت قریب تھا تو انہوں نے کھانا منگوایا اور اس میں سے کھایا، پھر سوار ہو گئے، تو میں نے ان سے کہا: ”یہ سنت ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“