السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال: يفطر وإن خرج بعد طلوع الفجر باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”مسافر روزہ افطار کر لے گا اگرچہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد نکلا ہو“۔
حدیث نمبر: 8178
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ح وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، زَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ جَعْفَرُ بْنُ جَبْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ فَدَفَعَ ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ، قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ يُجَاوِزِ الْبُيُوتَ حَتَّى دَعَا بِالسُّفْرَةِ، قَالَ: اقْتَرِبْ، قَالَ: قُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: " أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلَ.حافظ ثناء اللہ
جعفر بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جو رمضان میں فسطاط کے سفر میں ایک کشتی میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو انہوں نے (کشتی) لوٹائی، پھر کھانا قریب کر لیا۔ جعفر رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ وہ گھر سے ابھی دور نہیں گئے تھے کہ انہوں نے سفر کا کھانا منگوا لیا اور کہا: ”تم قریب ہو جاؤ۔“ وہ کہتے ہیں، میں نے کہا: ”کیا آپ گھروں کو نہیں دیکھ رہے؟“ تو سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟“ جعفر رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا، پھر انہوں نے کھانا کھا لیا۔