السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8091
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ؟ قَالَتْ: " لَا "، قُلْتُ: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ ".حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا روزہ دار مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ مباشرت نہیں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ اپنی قوت پر قابو رکھتے تھے۔