کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنْبَأََ أَحْمَدُ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ، وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے روزے دار کی مباشرت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے رخصت دی، پھر دوسرا آیا تو اس نے بھی پوچھا، مگر آپ ﷺ نے اسے منع کر دیا۔ سو جسے آپ ﷺ نے رخصت دی وہ بوڑھا تھا اور جسے منع کر دیا وہ جوان تھا۔
حدیث نمبر: 8084
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حدَّثَنِي أَبَانُ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْقُبْلَةِ لِلشَّيْخِ وَهُوَ صَائِمٌ، وَنَهَى عَنْهَا الشَّابَّ، وَقَالَ: " الشَّيْخُ يَمْلِكُ إِرْبَهُ، وَالشَّابُّ يُفْسِدُ صَوْمَهُ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بوڑھے کو روزے کی حالت میں بوسے کی اجازت دی اور نوجوان کو اسی سے منع کیا اور فرمایا: ”بوڑھا اپنی قوت پر قابو رکھ سکتا ہے اور نوجوان اپنا روزہ فاسد کر لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 8085
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ شَيْخٌ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الْقُبْلَةِ وَهُوَ صَائِمٌ فَرَخَّصَ لَهُ، وَنَهَى عَنْهَا شَابًّا..
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بوڑھے نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روزے کی حالت میں بوسے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے رخصت دے دی اور نوجوان کو اس سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 8086
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8087
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِيهَا لِلشَّيْخِ وَكَرِهَهَا لِلشَّابِّ.
حافظ ثناء اللہ
عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں عورت کے بوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بوڑھے کو اجازت دے دی اور نوجوان کے لیے اسے ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 8088
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ "، وَقَالَ رَجُلٌ: قَبَضَ عَلَى سَاقِهَا، قَالَ أَيْضًا " اعْفُوا الصِّيَامَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، جب وہ بوسے تک رک جائے، تو آدمی نے کہا: اس کی پنڈلی کو پکڑا، تو انہوں نے کہا: پھر بھی روزے سے درگزر کرو۔
حدیث نمبر: 8089
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْقُبْلَةَ وَالْمُبَاشَرَةَ لِلصَّائِمِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روزے دار کے لیے بوسے کو ناپسند کیا کرتے تھے اور مباشرت کو بھی۔
حدیث نمبر: 8090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ فَتًى سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْقُبْلَةِ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ: " لَا "، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: لِمَ تُحَرِّجُ النَّاسَ وَتُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ، وَاللهِ مَا بِذَلِكَ بَأْسٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَمَّا أَنْتَ فَقَبِّلْ، فَلَيْسَ عِنْدَ اسْتِكَ خَيْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں بوسہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نہیں۔ ایک بوڑھا جو ان کے پاس تھا اس نے کہا: آپ لوگوں پر تنگی اور حرج کیوں کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! اس میں کوئی حرج نہیں، تو انہوں نے فرمایا: تو بوسہ دے کیونکہ تیری رانوں میں کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 8091
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ؟ قَالَتْ: " لَا "، قُلْتُ: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا روزہ دار مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ مباشرت نہیں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ اپنی قوت پر قابو رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: مَا شَأْنِي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ الصَّائِمُ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ امْرَأَةً مَا بَقِيتُ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَوِيًّا مِمَّا يُتَوَهَّمُ تَحْرِيكُ الْقُبْلَةِ شَهْوَتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نیند میں دیکھا مگر آپ ﷺ مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا کیا معاملہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جب تک میں زندہ رہا میں نے عورت کو روزے کی حالت میں بوسہ نہیں دیا۔“
عمر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ بات درست ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔
عمر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ بات درست ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔