السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: مَا شَأْنِي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ الصَّائِمُ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ امْرَأَةً مَا بَقِيتُ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَوِيًّا مِمَّا يُتَوَهَّمُ تَحْرِيكُ الْقُبْلَةِ شَهْوَتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نیند میں دیکھا مگر آپ ﷺ مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا کیا معاملہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جب تک میں زندہ رہا میں نے عورت کو روزے کی حالت میں بوسہ نہیں دیا۔“
عمر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ بات درست ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔