حدیث نمبر: 8090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ فَتًى سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْقُبْلَةِ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ: " لَا "، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: لِمَ تُحَرِّجُ النَّاسَ وَتُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ، وَاللهِ مَا بِذَلِكَ بَأْسٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَمَّا أَنْتَ فَقَبِّلْ، فَلَيْسَ عِنْدَ اسْتِكَ خَيْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں بوسہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نہیں۔ ایک بوڑھا جو ان کے پاس تھا اس نے کہا: آپ لوگوں پر تنگی اور حرج کیوں کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! اس میں کوئی حرج نہیں، تو انہوں نے فرمایا: تو بوسہ دے کیونکہ تیری رانوں میں کچھ نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8090
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»