السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى هذا الحديث مقيدة بوقوع وطئه في صوم رمضان وفيها دلالة على أن هذه القصة غير قصة المظاهر، فإن وطء المظاهر وقع ليلا في القمر باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، حدَّثَهُمْ، قَالَ: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَتَيْتُ أَهْلِيَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ، ⦗٣٨٠⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ الْقُرَشِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اپنے بال نوچ رہا تھا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! میں رمضان میں اپنی بیوی کے پاس آیا ہوں“ تو آپ ﷺ نے اسے کفارہِ ظہار ادا کرنے کا حکم دیا۔