السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى هذا الحديث مقيدة بوقوع وطئه في صوم رمضان وفيها دلالة على أن هذه القصة غير قصة المظاهر، فإن وطء المظاهر وقع ليلا في القمر باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8050
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجُوَيْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرُّمْحِ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ " قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ، لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَجَاءَهُ عَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ. وَرِوَايَةُ ابْنِ بُكَيْرٍ فِي الْعَرَقِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ اللَّيْثِ، وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں بھئی؟“ اس نے کہا: رمضان میں دن کے وقت صحبت کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کر صدقہ۔“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے بیٹھنے کو کہا، پھر آپ ﷺ کے پاس دو ٹوکریاں لائی گئیں جن میں کھانا تھا، آپ ﷺ نے ان کا صدقہ کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ٹھہرنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ کے پاس کھانے کی ایک ٹوکری آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو صدقہ کر دے۔“