السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى هذا الحديث مطلقة في الفطر دون التقييد بالجماع، وبلفظ يوهم التخيير دون الترتيب باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو جماع کی قید کے بغیر مطلقاً روزہ توڑنے کے بارے میں روایت کیا ہے، اور ایسے الفاظ کے ساتھ جو ترتیب کے بجائے اختیار کا وہم پیدا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ: " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، ثُمَّ قَالَ: " كُلْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى عَنْ مَالِكٍ، وَبِبَعْضِ مَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کر لیا تو آپ ﷺ نے اسے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا، یا دو مہینے کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا، تو اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے اور صدقہ کر۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سے زیادہ محتاج کسی کو نہیں پاتا، تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”تم کھا لو۔“