حدیث نمبر: 8040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " وَمَا أَهْلَكَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدْ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا " فَقَالَ: أَفْقَرُ مِنَّا، فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بَيْتٌ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس استطاعت ہے کہ تو غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینوں کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا؟“ اس نے کہا: نہیں، پھر وہ بیٹھ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر دے“، پھر اس نے کہا: اس وادی میں مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں، تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جا، اپنے اہل و عیال کو کھلا دے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8040
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»