السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كفارة من أتى أهله في نهار رمضان وهو صائم باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ: " أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ ⦗٣٧٥⦘ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ، فَقَالَ " أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ "، فَقَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ: " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لِهَذَا، فَمَنْ أَصَابَ مِثْلَ مَا أَصَابَ فَلْيَصْنَعْ مَا أُمِرَ بِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی سے رمضان میں صحبت کر لی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے جس کے ساتھ غلام آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا اور وہ بڑا ٹوکرا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اپنی طرف سے کھلا دے۔“ تو اس نے کہا: ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل کو ہی کھلا دے۔“
محمد بن مسلم فرماتے ہیں: یہ رخصت اسی کے لیے تھی، جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کر لے جس طرح حکم ہے۔