السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، وَالسَّمَاءُ مُتَغَيِّمَةٌ فَرَأَيْنَا أَنَّ ⦗٣٦٨⦘ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، وَأَنَّا قَدْ أَمْسَيْنَا، فَأُخْرِجَتْ لَنَا عِسَاسٌ مِنْ لَبَنٍ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَشَرِبْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ ذَهَبَ السَّحَابُ وَبَدَتِ الشَّمْسُ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَقُولُ لِبَعْضٍ: نَقْضِي يَوْمَنَا هَذَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَقَالَ: " وَاللهِ لَا نَقْضِيهِ وَمَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ " كَذَا رَوَاهُ شَيْبَانُ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَكَانَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ يَحْمِلُ عَلَى يَدِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ الْمُخَالِفَةِ لِلْرِوَايَاتِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَيَعُدُّهَا مِمَّا خُولِفَ فِيهِ، وَزَيْدٌ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ الْخَطَأَ غَيْرُ مَأْمُونٍ، وَاللهُ يَعْصِمُنَا مِنَ الزَّلَلِ وَالْخَطَايَا بِمَنِّهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ.زید بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مدینہ کی مسجد میں بیٹھے تھے، رمضان کی بات ہے اور آسمانوں پر بادل تھے۔ ہم نے سوچا کہ سورج غروب ہو چکا ہے اور ہم نے شام کر لی تو ہمارے لیے بیتِ حفصہ رضی اللہ عنہا سے دودھ کا ایک ٹب نکالا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور ہم نے بھی پیا۔ ہم ابھی تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ بادل چھٹ گئے اور سورج نکلا تو ہم میں سے بعض نے کہا: ہم قضا کر دیں گے۔ یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قضا نہیں کریں گے، ہم نے یہ گناہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔
یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطا سے مامون نہیں ہیں، اللہ ہمیں پھسلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔