السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8015
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ عِلَاقَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَهُ عَشِيَّةً فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَوْمُ غَيْمٍ، فَظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَسَقَانِي، ثُمَّ نَظَرُوا إِلَيْهَا عَلَى سَفْحِ الْجَبَلِ، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا نُبَالِي وَاللهِ، نَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ زِيَادٍ وَفِي تَظَاهُرِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَضَاءِ دَلِيلٌ عَلَى خَطَأِ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فِي تَرْكِ الْقَضَاءِ وَهِيَ فِيمَا.حافظ ثناء اللہ
بشر بن قیس، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس دن بادل چھائے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر انہوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی بات نہیں، ہم اس کے عوض ایک روزہ رکھیں گے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان روایات کا واضح آنا غلطی کی صورت میں قضا کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور زید بن وہب کی روایت کے مطابق قضا کے ترک کی ہے۔