السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَنْظَلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ صَدِيقًا لِعُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ، فَصَعِدَ الْمُؤَذِّنُ لِيُؤَذِّنَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذِهِ الشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَفَانَا اللهُ شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نَبْعَثْكَ دَاعِيًا "، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ كَانَ أَفْطَرَ فَلْيَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد کے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا، پھر مؤذن اذان کے لیے اوپر چڑھا تو اس نے کہا: لوگو! یہ رہا سورج ابھی تو غروب نہیں ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے کافی ہو، ہم نے تجھے یہ دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے تم میں سے افطار کر لیا ہے وہ اس کے عوض ایک روزہ رکھے۔