السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8013
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُتِيَ بِجَفْنَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: الشَّمْسُ طَالِعَةٌ، فَقَالَ: " أَغْنَى الله عَنَّا شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نُرْسِلْكَ دَاعِيًا لِلشَّمْسِ، إِنَّمَا أَرْسَلْنَاكَ دَاعِيًا إِلَى الصَّلَاةِ، يَا هَؤُلَاءِ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَفْطَرَ فَقَضَاءُ يَوْمٍ يَسِيرٌ، وَإِلَّا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَعْلَى فَأَتَيْنَا بِطَعَامٍ فَأَفْطَرَ، وَقَالَ: " فَمَا أَيْسَرَ قَضَاءَ يَوْمٍ، وَمَنْ لَا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ رمضان کے مہینے میں ایک ٹب لایا گیا، مؤذن نے کہا: ابھی سورج ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے محفوظ رکھے، ہم نے تجھے سورج دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا، ہم نے تجھے نماز کی طرف بلانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! جس نے تم میں سے روزہ افطار کر لیا ہے وہ ایک دن کی قضا دے یا اپنے روزے کو پورا کرے۔