السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ عُمَرُ: " الْخَطْبُ يَسِيرٌ، وَقَدِ اجْتَهَدْنَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُ، وَعَلَى ذَلِكَ حَمَلَهُ أَيْضًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَرَ مُفَسَّرًا فِي الْقَضَاءِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے بھائی خالد بن اسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک بادلوں والے دن میں روزہ افطار کیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شام ہو چکی ہے اور سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین! سورج نکل آیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: فرق تو تھوڑا ہی ہے، ویسے ہم نے اجتہاد کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے۔