السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما قيل في بدء الصيام إلى أن نسخ بفرض صوم شهر رمضان باب: روزوں کی ابتدا کے متعلق جو کہا گیا، یہاں تک کہ وہ ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ذریعے منسوخ ہو گئے۔
حدیث نمبر: 7894
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الْحَافِظَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: " أُحِيلَ الصَّوْمُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ: قَدِمَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ وَلَا عَهْدَ لَهُمْ بِالصِّيَامِ، فَكَانُوا يَصُومُونَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ حَتَّى نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَاسْتَكْثَرُوا ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَكَانَ مَنْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا كُلَّ يَوْمٍ تَرَكَ الصِّيَامَ مِمَنْ يُطِيقُهُ رَخَّصَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ وَنَسَخَهُ {وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: ١٨٤] " قَالَ: فَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اصحابِ محمد ﷺ نے حدیث بیان کی کہ ماہِ صیام تین وجوہ پر فرض کیا گیا۔ لوگ مدینہ آئے تھے اور ان کے لیے کوئی فرض روزہ نہیں تھا۔ سو وہ تین دن کے روزے ہر ماہ رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ فرض ہو گیا تو انہوں نے اسے زیادہ جانا اور ان پر گراں گزرا۔ جو روزانہ کا مسکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا وہ کھلاتا اور روزہ نہ رکھتا۔ اس میں ان کو رخصت دی گئی تھی اور اس آیت ﴿وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 184] کے دوران، راوی کہتے ہیں: سو وہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیے گئے۔